بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کو سپریم کورٹ میں چيلنج کردیا

بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست کیرالہ کی حکومت نے متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ نے بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کردہ قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ کیرالہ وہ پہلی بھارتی ریاست ہے جس نے متنازع شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جبکہ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ میں تقریباً 60 درخواستیں پہلی ہی زیر سماعت ہیں۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) آئین کی متعدد شقوں بشمول مساوات کے خلاف ہے اور دستور کے بنیادی اصول سیکولر ازم سے متصادم ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی کیرالہ حکومت نے کہا کہ سی اے اے بھارتی عوام سے مذہبی آزادی چھینتا ہے اور پڑوسی ممالک میں رہنے والی چند مخصوص اقلیتوں کو تحافظ فراہم کرتا ہے جو دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 131 بھارتی سپریم کورٹ کو مرکزی حکومت اور ریاستوں کے درمیان تنازعات سننے اور حل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے بھارت میں متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے سوا دیگر مذاہب کے تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی۔

اس قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہورہے ہیں جنہیں بھارتی پولیس نے سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔ بھارتی پولیس کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ اور تشدد سے درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔

News Code 1897017

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 8 =