اختلاف رائے کو دبانے کیلئے دفعہ 144 کواستعمال نہیں کیا جاسکتا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیرمیں پابندیوں سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کو دبانے کیلئے دفعہ 144 کواستعمال نہیں کیا جاسکتا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیرمیں پابندیوں سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اختلاف رائے کو دبانے کیلئے دفعہ 144 کواستعمال نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو ودیگرپابندیوں کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔ جسٹس این وی رامانا، جسٹس سباش ریڈی اور جسٹس بی آر گوائی  پرمشتمل تین رکنی بنچ نے 27 نومبر کو محفوظ کیے جانے والا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی آزادی اہم ہوتی ہے، اظہاررائے کی آزادی کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے، اختلاف رائے کو دبانے کیلئے دفعہ 144 کواستعمال نہیں کیا جاسکتا، انٹرنیٹ کو محدود یا معطل کرنے کے احکامات کی عدالتی جانچ ہوگی۔

واضح  رہے بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق کانگریس کے رہنماغلام نبی آزاد اور کشمیرٹائمزکی ایگزیکٹو ایڈیٹرانورادھابھاشن ودیگر کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

News Code 1896902

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 15 =