امریکہ  کا سلامتی کونسل کو خط /دہشت گردانہ اقدام کا دفاع

امریکہ نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں اپنے دہشت گردانہ اقدام کا دفاع کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران سے بغیر شرائط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں اپنے دہشت گردانہ اقدام کا دفاع کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران سے بغیر شرائط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔  امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بغیر کسی شرط کے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، مذاکرات کا مقصد امن کو مزید خراب ہونے سے روکنا ہے۔امریکی خط میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت جنرل سلیمانی کو قتل کرنا دفاعی اقدام تھا، اس کے علاوہ خطے میں امریکیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے امریکہ مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر عراق نے بھی سکیورٹی کونسل میں امریکہ کے خلاف شکایت دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا بغداد ایئر پورٹ پر عراق کے سرکاری مہمان پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور عراق کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ واضح رہے کہ 3 جنوری کو ایرانی سپاہ قدس کے سربراہ میجر جنرل سلیمانی عراقی حکومت کی دعوت پر بغداد پہنچے اور انھیں بغداد ايئر پورٹ کے قریب امریکہ نے دہشت گردانہ اور بزدلانہ ہوائی حملے میں شہید کردیا اور ان کے استقبال میں آنے والے عراقی رضاکار فورس ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی مہند س بھی شہید ہوگئے تھے۔ شہید سلیمانی اور ابومہدی مہندس کو بڑدلانہ حملے میں شہید کرنے پر امریکہ کی عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایرانی سپاہ نے بھی منہ توڑ جوابی کارروائی میں بدھ کی صبح عراق میں عین الاسد میں امریکی ايئر بیس پر درجنوں میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں امیرکہ کے 80 فوجی ہلاک اور 230 زخمی ہوگئے البتہ امریکہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت چھپا رہا ہے اور ایران کے قریب ہونے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔

News Code 1896894

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 7 =