ایران کا امریکہ کے منہ پر زوردار طمانچہ /امریکہ خطے کی تباہی اور بربادی کا اصلی سبب

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 19 دیماہ کی مناسبت سے قم کے ہزاروں افراد نے ملاقات میں آج صبح (بروز بدھ) عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کی خطے میں موجودگی علاقائی ممالک اور عوام کے لئے تباہی اور بربادی کا سبب ہے لہذا خطے سے امریکہ کا خروج ضروری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 19 دیماہ کی مناسبت سے قم کے ہزاروں افراد نے ملاقات میں آج صبح (بروز بدھ) عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کو دشمن کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ قراردیا اور خطے میں امریکہ کے تباہی اور بربادی پر مبنی اقدامات اوراس کے مفسدانہ حضور کےخاتمہ کو اصلی مقابلہ قراردیتے ہوئے فرمایا: حاج قاسم سلیمانی کی معنویت اور شہادت کے عظيم برکات کی وجہ سے ان کی تشییع جنازہ کے دوران عراق اور ایران کے شہروں میں ایک قیامت برپا ہوگئی اور تشییع جنازہ کے ان عظیم اجتماعات نے انقلاب اسلامی کے زندہ ہونے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے ثابت کردیا، اور ایران اور خطے کو اس شہید کے ذریعہ جو انعام اور ارمغان حاصل ہوئے ہیں میں ان کے لئے اس عزیز شہید کی عظیم روح کے سامنے سر تعظیم خم کرتا ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ایران اور اسلام کے مایہ نازسردار شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس عزیز شہید کو بہترین دوست اور عظیم و دلیر انسان قراردیا جس کی روح خوش نصیبی اور خوش بختی کے ساتھ ملکوت اعلی کی طرف پرواز کر گئی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے میجر جنرل شہید سلیمانی کی خصوصیات کی تشریح میں " شجاعت " اور " تدبیر" کو شہید کی دو خاص اور ممتاز خصوصیات قراردیتے ہوئے فرمایا:بعض افراد کے پاس شجاعت ہوتی ہے لیکن ان کے پاس شجاعت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تدبیر اور عقل  نہیں ہوتی ۔ بعض افراد کے پاس تدبیرہوتی ہے لیکن تدبیر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کے پاس شجاعت نہیں ہوتی اور عمل و اقدام کی ان میں ہمت نہیں ہوتی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حاج قاسم سلیمانی نے  دفاع مقدس کے آغاز سے لیکر اپنی عمر کے اختتام تک  شجاعت کے ساتھ بڑے اور عظيم خطرات کا مقابلہ کیا لیکن ان تمام خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے تدبیر، عقل اور منطق سے کام لیا۔ وہ صرف عسکری میدان کے سورما نہیں تھے بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی شجاعت اور تدبیر کے ساتھ عمل کرتے تھے اور ان کی گفتگو منطقی ، اطمینان بخش اور مؤثر ہوتی تھی اور میں نے اس حقیقت کا سیاسی میدان میں سرگرم دوستوں کےسامنے بارہا ذکر کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حاج قاسم سلیمانی کے خلوص کو ان کی دوسری تمام خصوصیات سے ممتاز اور بالاتر قراردیتے ہوئے فرمایا: وہ اپنی تدبیر اور شجاعت کو راہ خدا میں استعمال کرتے تھے اور ان میں ریا اور دکھاوے کا کوئي شائبہ نہیں تھا اور ہمیں بھی اس عظیم خصوصیت یعنی خلوص کے حصول کے سلسلے میں مشق اور تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حاج قاسم سلیمانی کے خلوص کے بارے میں فرمایا: مختلف حکام کے ساتھ سرکاری جلسات میں وہ نگاہوں سے دور اور کسی کونے میں بیٹھ جاتے تھے اوردیکھنے کے لئے انھیں ڈھونڈھنا اور تلاش کرنا پڑتا تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تمام شرائط حتی جنگ کے میدان میں حاج قاسم سلیمانی کی طرف سے شرعی حدود کی رعایت کو ان کی ایک اور اہم خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: وہ ایک جنگجو کمانڈر اور عسکری امور پر مکمل مہارت رکھتے تھے وہ میدان جنگ میں بھی شرعی حدود کی رعایت کرتے تھے تاکہ کسی پر کسی قسم کا کوئی ظلم و ستم نہ ہونے پائے، حالانکہ جنگ اور عسکری میدان میں بہت سے لوگ احتیاط اور شرعی حدود کی رعایت نہیں کرتے ہیں۔

News Code 1896853

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 5 =