جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے زخمی طلباء کے خلاف مقدمہ

بھارتی حکومت کی ایما پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے زخمی طلبا کے خلاف ہی پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

مہرخبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی حکومت کی ایما پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے زخمی طلبا کے خلاف ہی پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔دہلی پولیس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تشدد کا شکار طلبا یونین کی سربراہ ایشے گھوش سمیت 19 طلبا کے خلاف سکیورٹی گارڈز پر حملہ کرنے اورتوڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ نہرو یونیوررسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کی جامعہ جواہر لعل نہرو کے 3 ہوسٹلز میں دو روز قبل درجنوں نقاب پوش حملہ آوروں نے طلبا پرلوہے کی راڈ، لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا تھا جس میں اسٹوڈنٹ یونین کی سربراہ ایشے گھوش سمیت30 سے زائد طلبا شدید زخمی ہوئے تھے۔ نقاب پوش حملہ آور اس دوران بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم اور گولی مارو جے این یو غداروں کو کے نعرے لگا رہے تھے۔ حملہ آوروں نے اس دوران اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے لڑکیوں اور یہاں تک کہ نابینا طلبہ کو بھی مارا پیٹا۔

حملہ آوروں نے لڑکیوں کے ہوسٹلز میں بھی داخل ہوکر طالبات کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ طلبا یونین کی صدر ایشے گھوش کو سر پر دو جگہ لوہے کی راڈ لگنے سے شدید زخم آئے۔ رپورٹس کے مطابق نقاب پوش حملہ آور کیمپس کے اندر کئی گھنٹے تک طلبا اور پروفیسروں کو زودوکوب کرتے رہے تاہم باہر موجود پولیس اندر نہیں آئی اور نہ ہی طلبا کو بچایا۔تشدد کا شکار ہونے والی طلبا یونین کی سربراہ ایشے گھوش کا کہنا ہے کہ کیمپس پر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا گیا اور انہیں کئی لوہے کی راڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن طلباپر حملے کے لیے استعمال ہونے والی ہر آہنی سلاخ کا جواب آہنی عزم و حوصلے اور بحث و مباحثے سے دیا جائے گا۔

News Code 1896821

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 4 =