طالبان نے امریکہ کی بات مان لی / عارضي جنگ بندی کا اعلان

طالبان نے امریکی بات تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان بھر میں عارضی جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے، اس اقدام سے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ طالبان نے امریکی بات تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے افغانستان بھر میں عارضی جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے، اس اقدام سے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے نتیجے میں امریکہ اس قابل ہوگا کہ وہ افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ ختم کرسکے اور اپنے فوجیوں کو واپس گھر لاسکے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت افغانستان میں امریکہ کے 12 ہزار فوجی موجود ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ افغانستان کو دہشتگردوں کا بیس کیمپ نہیں بننے دیا جائے گا۔  طالبان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جنگ بندی معاہدہ کتنے دن کا ہوگا مگر یہ 10 دن کا سیز فائر ہوسکتا ہے جس کی حتمی منظوری طالبان کے سربراہ  ملا ہیبت اللہ نے دینی ہے۔ امریکہ کے ساتھ معاہدے سے باخبر طالبان رہنماﺅں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ ہماری مذاکراتی ٹیم نے ایک ہفتے تک طالبان کی شوریٰ کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ مختصر عرصے کیلئے جنگ بندی کی جائے گی، مذاکراتی ٹیم افغانستان سے واپس قطر پہنچ گئی ہے۔طالبان کی جانب سے جنگ بندی پر رضا مندی کے اظہار کے بعد قوی امکان پیدا ہوگیا ہے کہ بہت جلد امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے جس کے 2 ہفتوں کے اندر انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ خیال رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کے گزشتہ دور میں عارضی جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔

News Code 1896599

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 0 =