بھارت میں متنازع ، متعصبانہ اور ظالمانہ قانون کے خلاف مظاہرے جاری/ 28 افراد شہید

بھارت کے دارالحکومت دہلی سمیت مختلف ریاستوں ميں مسلم مخالف متنازع ، متعصبانہ اور ظالمانہ قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، دہلی کے شاہین باغ میں خواتین نے سخت سردی کے باوجود دن رات دھرنا دے رکھا ہے۔ اترپردیش میں پولیس نے مسلمانوں کی املاک اور جائدیدوں کو نقصان پنہچانا شروع کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت دہلی سمیت مختلف ریاستوں ميں مسلم مخالف متنازع ، متعصبانہ اور ظالمانہ قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، دہلی کے شاہین باغ میں خواتین نے سخت سردی کے باوجود  دن رات دھرنا دے رکھا ہے۔ اترپردیش میں پولیس نے مسلمانوں کی املاک اور جائدیدوں کو نقصان پنہچانا شروع کردیا ہے۔ بھارتی شہریوں نے حکمراں جماعت کے متنازع قانون کو بھارتی آئین کی روح کے منافی قراردیتے ہوئے ٹھکرا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مودی سرکار کے غیرقانونی اقدامات کے بعد ممبئی، دہلی، اتر پردیش، بہار،چنئی اور کلکتہ سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد حکومت کے کالے قانون کے خلاف سڑکوں پرموجود ہیں اور مودی کو ہٹلر سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔بھارت کے کئی شہروں میں اس وقت حالات بہت کشیدہ ہیں۔ نئی دہلی احتجاج میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پر امن مارچ کیا۔ مظاہرین توڑ پھوڑ کے الزامات سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ باندھ لئے تھے۔متنازعہ شہریت قانون پر پورے بھارت میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ جس میں پولیس کی فائرنگ سے اب تک 28 افراد شہید ہو چکے ہیں۔بھارت کی معیشت کو 30 سال کے سب سے برے حالات کا سامنا ہے۔

News Code 1896592

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =