نریندرمودی کی ظالم اور متعصب حکومت کے خلاف پورا بھارت بیدار ہوگیا

بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع اور ظالمانہ قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نئی دہلی میں خواتین 15 دسمبر سے دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف پورا بھارت جاگ گيا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع اور ظالمانہ قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نئی دہلی میں خواتین 15 دسمبر سے دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف پورا بھارت جاگ گيا ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا مرکز بنا ہواہے، نئی دہلی کے شاہین باغ میں خواتین 15دسمبر سے 24 گھنٹے دھرنے پر بیٹھی ہیں، آسام میں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے مظالم پر خواتین خوفزدہ ہیں، دن رات جاری دھرنے میں خواتین دہلی کے سرد موسم میں اپنے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لیے بیٹھی ہیں۔ اتر پردیش کی بنارس ہندو یونیورسٹی اور اس سے منسلک کالجوں کے 51 پروفیسروں نے متنازع قانون کے خلاف دستخط مہم شروع کردی ہے، یونیورسٹی کے طالب علموں کی گرفتاری کے بعدپروفیسروں نے یہ اقدام اٹھایا۔ کیرالا میں فٹ بال میچ کے دوران آزادی کے نعرے لگ گئے، کیرالا میں مسیحی برادری نے ٹوپیاں اور لڑکیوں نے سروں پر حجاب پہن کر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے 51 پروفیسرز نے دستخطی مہم شروع کردی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو جھوٹا قرار دے دیا۔ مودی نے دو روز قبل کہا تھا کہ ملک میں کوئی حراستی مرکز نہیں ہے۔ مودی حکومت کی ظالمانہ، متعصبانہ اور بھارت مخالف پالیسیوں کے خلاف پورا بھارت جاگ گیا ہے، ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی، بدہسٹ، دلت ، آدی واسی اور دیگر قبائل بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوگئے ہیں۔ بھارتی عوام اور بھارتی حکومت کے درمیان قانون کی جنگ جاری ہے اس جنگ میں مودی کے قانون کی فتح ہوگی یا گاندھی کے قانون کی جیت ہوگی، یہ وقت بتائےگا۔

News Code 1896517

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =