بھارتی ریاست اترپردیش میں پرامن مظاہرین پر پولیس کا تشدد / بھارت بھر میں مظاہرے جاری

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں حکام نے متنازعہ نئے ظالمانہ اور نسل پرستانہ شہریت قانون کے خلاف پر امن مظاہریں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اب تک ریاست میں 15 افراد کو شہید کردیا ہے۔ پولیس مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی ریاست اتر پردیش میں حکام نے متنازعہ نئے ظالمانہ اور نسل پرستانہ شہریت قانون کے خلاف پر امن مظاہریں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اب تک ریاست میں 15 افراد کو شہید کردیا ہے جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے پولیس مسلمانوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ بھارتی نجی ٹی کےمطابق  سرکاری حکام کاکہناہے کہ ریاست بھر میں مظاہروں کے دوران 15 افراد شہید ہوئے تاہم مقامی میڈیا نے یہ تعداد 15 سے زائد بتائی ہے۔ایک سینئر پولیس عہدیدار سریش چندر نے بتایا ہے کہ ہم گرفتاریوں اور سیل شدہ دکانوں کی تعداد کے اعداد و شمارجمع کررہے ہیں اور جلد ہی میڈیا کو اس سے آگاہ کردیا جائے گا۔ان کا کہنا تھاکہ مجموعی طور پر 15 افراد شہید ہوئے ہیں ہم مزید تفصیلات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف ضلع مظفر نگر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 67 دکانوں کو حکام نے سیل کردیا ہے اور ان کے پاس ویڈیو فوٹیج موجود ہے جس میں مظاہرین کودکانوں کی چھتوں سے پولیس پر پتھراؤ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔دوسری طرف بھارتی میڈیا نےمظفر نگر میں پولیس اور ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کی وردیاں پہن کر توڑ پھوڑ کرنے اور مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو گرفتار اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے  ایسے کئی مناظر بھی ویڈیو کیمروں میں محفوظ کر لئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اترپردیش کی پولکس کے ہمراہ آر ایس ایس کے اہلکار بھی مسلمانوں اور مظاہرین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہریت ترمیم قانون کے خلاف میرٹھ میں ہونے والے پرتشدد احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملنے جانے والے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کو پولیس نے شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا  جس کے بعد وہ واپس دہلی لوٹ گئے۔راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے اِنہیں کوئی عدالتی اور مودی سرکار کا تحریری حکمنامہ نہیں دکھایا گیا لیکن اِنہیں واپس جانے کے لئے کہا گیا،ہم نے پولیس سے کہا کہ ہم صرف تین لوگ جائیں گے، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے تامل ناڈو میں شہریت قانون کے خلاف جلوس نکالنے پر 8000 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف منظور ہونے والے متنازعہ قانون کے خلاف پر پر امن مظاہرے جاری ہیں لیکن حکومتی اہلکار مظاہروں کو پرتشدد بنانےکی سازش کررہے ہیں ۔

News Code 1896463

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 5 =