مسلم طالبہ کا گولڈ میڈل لینے سے انکار/ مسلم مخالف قانون کے خلاف احتجاج کا انوکھا طریقہ

بھارتی ریاست کیرالہ کی انڈیچیری یونیورسٹی کے 27 ویں کانووکیشن میں باحجاب مسلمان طالبہ نے مسلم مخالف قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی حکومت کا گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست کیرالہ کی انڈیچیری یونیورسٹی کے 27 ویں کانووکیشن میں  باحجاب مسلمان طالبہ نے مسلم مخالف قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی حکومت کا گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کی انڈیچیری یونیورسٹی کے 27ویں کانووکیشن میں صدر رام ناتھ کووند کو طلبا میں میڈلز اور اسناد تقسیم کرنا تھا تاہم طلبا کے گروپ نے مسلم مخالف متنازع قانون پر احتجاجاً صدر سے اسناد لینے سے انکار کردیا جس پر سکیورٹی سخت کردی گئی اور کسی بھی مسلمان طلبہ کو کانووکیشن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایسے طلبا میں شعبہ ابلاغیات میں ٹاپ کرنے والی ہونہار طالبہ ربیحہ رحیم بھی شامل ہیں۔ ربیحہ کو کسی ممکنہ احتجاج کے پیشن نظر کانووکیشن سینٹر میں داخل ہونے نہیں دیا گیا، صدر رام ناتھ کووند کے کانووکیشن سے جانے کے بعد ربیحہ کو اندر جانے کی اجازت دی گئی تاہم ربیحہ نے اسٹیج پر پہنچ کر اپنی سند تو لے لی لیکن گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا۔مسلم طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ شہریت ترمیمی قانون کیخلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھرپور شرکت کی تھی تاہم گولڈ میڈل لیتے ہوئے کسی قسم کے احتجاج کا ارادہ نہیں تھا اس کے باوجود مجھے صدر رام ناتھ کووند کے واپس چلے جانے تک کانووکیشن میں شرکت سے روک دیا گیا۔ میں ایسے گولڈ میڈل کو ٹھوکر مارتی ہوں۔

News Code 1896461

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 14 =