خاشقجی کا بہیمانہ قتل / سعودی عرب کی مضحکہ خيزنمائش/عالمی برادری کا عدم اطمینان

عرب ذرائع کے مطابق خاشقجی کے قتل کے ماسٹر مائنڈ اور اصلی قاتل سعودی عرب میں گھوم پھر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب کی عدالت نے مضحکہ خیز فیصلے میں اصل قاتلوں کو کیس سے باہر اوربری کرتے ہوئے 5 افراد کو سزائے موت اور تین کو 24 سال قید کی سزا سنائي ہے جبکہ تین کو بری کردیا گیا ہے سعودی عرب کی عدالت کے اس فیصلے پر اقوام متحدہ ، ترکی اور دیگر ممالک نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق خاشقجی کے قتل کے ماسٹر مائنڈ اور اصلی قاتل سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر سعود القحطانی ہیں ، جو کیس سے باہر اور آرام سے  گھوم پھر رہے ہیں ۔ سعودی عرب کی عدالت نے مضحکہ خیز فیصلے میں اصل قاتلوں کو کیس سے باہر اوربری کرتے ہوئے 5 افراد کو سزائے موت اور تین کو 24 سال قید کی سزا سنائي ہے جبکہ تین کو بری کردیا ہے سعودی عرب کی عدالت کے اس فیصلے پر اقوام متحدہ ، ترکی اور دیگر ممالک نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصلخانہ کے ڈائریکٹر کو بھی آزاد کردیا گیا ہے جو خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں۔ جمال خاشقجی کو سعودی خفیہ اہلکاروں نے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصلخانہ میں قتل کردیا تھا۔ ان کے اعضا کے ٹکڑے کرکے سعودی قونصلر کے گھر میں دفن کردیے گئے تھے۔سعودی ولی عہد محمدبن سلمان کے بھی قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں ولیعہد کے حکم پر جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا۔ ولیعہد محمدبن سلمان اور اس کےقریبی ساتھی سعود القحطانی پرفرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ سعودی عرب نے خاشقجی کی باقیات کو بھی ان کے اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ ادھر ترکی نے بھی خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی عرب کی عدالت کے فیصلے کو نمائشی قراردیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں ترک حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تھا ، قتل ترکی میں ہوا ہے اور قتل کرنے والے افراد سعودی عرب سے ایک خصوصی طیارے کے ساتھ استنبول پہنچے اور پھر واپس بھی چلے گئے سعودی عرب کو خاشقجی کی باقیات کو بھی ان کے اہلخانہ کے حوالے کرنا چاہیے ترک صدر کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سعودی عرب کی تحقیقات پر انھیں کوئی اطمینان نہیں، سعودی عرب کو حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کی عادت ہوگئی ہے۔

سعودی عرب پہلے خاشقجی کے بہیمانہ قتل سے انکار کرتا رہا اور پھر اس نے عالمی برادری کے دباؤ اور ٹھوس شواہد کی بنا پر خاشقجی کے قتل کا اعتراف کرلیا اور قتل کی تحقیقات کا اعلان کیا لیکن اس نے ترکی کے ساتھ خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بارے میں تحقیقات سے انکار کردیا۔ ترکی کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ سعودی عرب کےخونخوار ولیعہد محمد بن سلمان خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے اصل ماسٹر مائنڈ ہیں اور خاشقجی کے قتل سے ولیعہد محمد بن سلمان اور اس کے خصوصی مشیر سعود القحطانی کو باہر رکھنا سعودی عدالت کے فیصلے کے غیر منصفانہ اور نمائشی ہونے کی واضح دلیل ہے۔

News Code 1896460

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 17 =