بھارت کی حکمراں جماعت کو جھاڑ کھنڈ کے انتخابات میں شکست

مسلم مخالف متنازع بل کی منظوری کے بعد سے نریندرمودی سرکار کا زوال شروع ہوگیا ہے بھارت کی حکمراں جماعت کو جھاڑ کھنڈ کے انتخابات میں شکست ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں عوام کے پرامن مظآہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مسلم مخالف متنازع بل کی منظوری کے بعد سے نریندرمودی سرکار کا زوال شروع ہوگیا ہے بھارت کی حکمراں جماعت کو جھاڑ کھنڈ کے انتخابات میں شکست ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں عوام کے پرامن مظآہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھاڑ کھنڈ کی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں 81 سے 30 نشستیں جھاڑ کھنڈ مکتی مورچہ (JMM) نے حاصل کرلیں جب کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو 25 سیٹوں پر ہی کامیابی مل سکی، کانگریس کے 16 امیدواروں نے انتخابی معرکہ اپنے نام کرلیا۔ جے ایم ایم نے کانگریس اور آر جے ڈی کے ساتھ انتخابی اتحاد بنایا تھا، اس طرح اتحاد کی مجموعی نشستوں کی تعداد 47 ہوگئی جبکہ حکومت بنانے کے لیے 41 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ حکمراں جماعت کو شکست فاش کے بعد وزیر اعلیٰ رگھوورداس نے گورنر دروپدی کو استعفیٰ پیش کردیا تاہم نئی حکومت کی تشکیل تک وہی کام کرتے رہیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں مودی کی جماعت کو اس ریاست سے سادہ اکثریت حاصل ہوئی تھی اور اس نے 5 سال بلا شرکت غیرے جھاڑ کھنڈ میں حکومت کی تاہم بری کارکردگی اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث بی جے پی کو اپنے مضبوط گڑھ سے شکست کی ہزیمت اُٹھانی پڑی اور بی جے پی کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس بھی اپنی نشست نہیں بچاسکے۔

News Code 1896441

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 0 =