عدالت نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث  5 افراد کو سزائے موت سنا دی

سعودی عرب کی عدالت نے ترکی میں سعودی قونصلخانہ کے اندربہمیانہ طور پر ہلاک کئے گئے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر 5 مجرموں کو سزائے موت سنا دی ہے لیکن سعودی ولیعہد کے قریبی مشیر کو بچا لیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی عدالت نے ترکی میں سعودی قونصلخانہ کے اندربہمیانہ طور پر ہلاک کئے گئے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر 5 مجرموں کو سزائے موت سنا دی ہے لیکن سعودی ولیعہد کے قریبی مشیر کو بچا لیا ہے۔ اطلاعات  کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں سعودی عدالت میں 11 ملزمان پر مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 5مجرموں کو سزائے موت سنائی اور 3 مجرموں کو 24 سال تک قید کی سزا سنائی جبکہ 3 ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔سعودی حکام نے اس قتل کیس میں ولیعہد محمدبن سلمان کےقریبی ساتھی سعود القحطانی سے بھی تفتیش کی لیکن انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی سعودی ولی عہد محمدبن سلمان کے ناقد تھے اور غیر ملکی اخبارات میں ان پر سخت تنقید کرتے تھے۔جمال خاشقجی کو سعودی خفیہ اہلکاروں نے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصلخانہ میں قتل کردیا تھا۔ ان کے اعضا کے ٹکڑے کرکے سعودی قونصلر کے گھر میں دفن کردیے گئے تھے۔سعودی ولی عہد محمدبن سلمان پر پر بھی قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود تھے کہ ان کے حکم پر جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا ولیعہد محمدبن سلمان اور اس کےقریبی ساتھی قحطانی پرفردجرم عائد نہیں کی گئی۔ سعودی عرب نے خاشقجی کی باقیات کو بھی ان کے اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا۔

News Code 1896435

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 5 =