عدالت کے تفصیلی فیصلے سے پرویز مشرف کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے کے تفصیلی فیصلے سے ہی پرویز مشرف کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے کے تفصیلی فیصلے سے ہی پرویز مشرف کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سزا پہلے دی گئی اور فیصلہ بعد میں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنچ میں شامل ایک جج نے بھی کہا ہے کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ واضح رہے کہ سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنائی گئی سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔

تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ نے کہا ہے کہ پھانسی سے قبل اگر پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش ڈی چوک لائی جائے اور 3 روز تک وہاں لٹکائی جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ 40 سال تک ملک کی خدمت کرنے والا ئدار نہیں ہوسکتا اور عدالت کے غیر قانونی فیصلے سے پاکستانی فوج کے اندر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

News Code 1896321

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 7 =