ایرانی صدر کی کوالالمپور اجلاس میں اسلامی ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون پر تاکید

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو سیاسی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو سیاسی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ شمالی افریقہ سے لیکر مشرقی ایشیا تک  پورے عالم اسلام کو سنگين مسائل ، سنجیدہ مشکلات اور بھیانک خطرات کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے  ہر روز فلسطینیوں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے ۔ امریکہ کی اسلامی ممالک میں فوجی لشکر کشی ، مداخلت اور خطرات بھی نمایاں ہیں۔

صدر حسن روحانی نے ثقافتی، اقتصادی ، سیاسی اور عسکری شعبوں میں مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک باہمی تعاون کے ساتھ  دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا سربلند کرسکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کو غیر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ  آپسی تعلقات کو بھی مضبوط اور مستحکم بنانے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

صدر روحانی نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو تمام مشکلات کی کلید قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوان سائنس اور ٹیکنالوجی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور ہم بہت سے شعبوں میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے ہیں ، ہم اپنے تجربات اسلامی ممالک کو فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ ہم تمام اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہاں ہیں۔ صدر روحانی نے کہا کہ اسلامی ممالک باہمی تعاون کے ساتھ مشکلات اور اغیار کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور اعتماد سے مسئلہ فلسطین کو حل کرسکتے ہیں، مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا سب سے اہم اور سر فہرست مسئلہ ہے۔ ہم شام، افغانستان، لیبیا، لبنان ، یمن اور کشمیر کے مسائل کو بھی باہمی تعاون کے ساتھ حل کرسکتے ہیں۔ صدر روحانی نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیشرفت کے لئے کوالالمپور میں حمایتی مرکز کے قیام اور مشترکہ اسلامی اقتصادی اور ڈیجیٹل بازار کے قیام کی تجاویز بھی پیش کیں۔

News Code 1896309

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 13 =