کوالالمپور اجلاس پر سعودی عرب کا غم و غصہ اور برہمی/ اسرائیل پر خوف و ہراس طاری

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقد ہونے والے اسلامی ممالک کے اجلاس سے سعودی عرب اور اسرائیل میں بہت زيادہ غم و غصہ اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقد ہونے والے اسلامی ممالک کے اجلاس سے سعودی عرب اور اسرائیل میں بہت زيادہ غم و غصہ اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے ، مسلمانوں کے ساتھ خیانت  نیز امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساز باز کی بنا پر سعودی عرب کے ہاتھ سے امت مسلمہ کی قیادت نکل رہی ہے جس کی بنا پر سعودی عرب پر خوف و ہراس اور وحشت طاری ہوگئی ہے۔

العربی الجدید کے مطابق اس اجلاس کے بارے میں کوئی تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن ملائشیا اجلاس میں کشمیر ، شام، یمن ، میانمار،ایغور مسلمانوں اور مشرق وسطی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔

رائٹرز کے مطابق اس اجلاس سے ملائشیا کے وزير اعظم مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اپنے اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس اجلاس سے ایران کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین حسن روحانی بھی خطاب کریں گے۔

اس اجلاس کے اصلی محرکین میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی تھے جس نے سعودی عرب کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئےاس اجلاس میں اپنی شرکت کا پروگرام منسوخ کردیا۔ اس اجلاس میں 4 اہم ممالک کی شرکت سعودی عرب کے لئے بہت ہی گراں ہے جن میں قطر، ترکی، ایران اور ملائشیا شامل ہیں، لہذا سعودی عرب نے پاکستان کے وزير اعظم عمران خان کو اس اجلاس سے دور رہنے کی ہدایت کی اور حکم نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ۔ جس کے بعد عمران خان نے سعودی عرب کی اطاعت اور پیروی کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔

سعودی عرب اس اجلاس کو اپنی قیادت کے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کررہا ہے ۔ سعودی عرب ملائشیا اجلاس کو او آئی سی کے متوازی قرار دے رہا ہے ۔ ملائشیا کے وزير اعظم او آئی سی کے ناکارہ ہونے پر بیان اور دلائل بھی پیش کرچکے ہیں ۔ او آئی سی پر سعودی عرب کی سرپرستی  ہے اور سعودی عرب نے آج تک دنیائے اسلام کی پشت میں خنجر ہی گھونپا ہے اور اب دنیائے اسلام میں بیداری پیدا ہوچکی ہے اور مسلمانوں میں بڑی حد تک اچھے اور برے کی تمییز پیدا ہوچکی ہے اگر چہ سعودی عرب پیسے کے زور پر پاکستان جیسے بعض اسلامی ممالک پر اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہے لیکن ایسے بھی اسلامی ممالک ہیں جو سعودی عرب کے رعب و دبدبے میں آنے والے نہیں ہیں۔ ادھر سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل پر بھی اس اجلاس کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ اس اجلاس میں ترکی ، ملائشیا، ایران اور قطرجیسے اہم اسلامی ممالک شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں سعودی عرب اور امارات کے علاوہ 52 اسلامی ممالک کے صدور ، نمائندے ، دانشور اور مذہبی شخصیات شریک ہیں۔ ملائشیا اجلاس کو سعودی عرب اپنی  بہت بڑي شکست اور ہزیمت تصور کررہا ہے۔

News Code 1896302

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 7 =