بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازعہ قانون سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے شہریت میں ترمیم سے متعلق قانون کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کو 22 جنوری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے شہریت میں ترمیم سے متعلق قانون کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے حکومت کو 22 جنوری تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں منظور کیے گئے شہریت کے متنازع قانون پر عملدرآمد روکنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

اس حوالے سے عدالت میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف اپیلیں دائر کرنے والے درخواست گزاروں کے وکیل کپل سیبل نے کہا کہ " ہم اس کیس میں حکم امتناع چاہتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی آئین کے ان حصوں کے برعکس ہے جس میں سب کو برابری کی ضمانت دی گئی ہے۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوب دے نے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون پر عملدرآمد روکنے سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں ۔ البتہ عدالت 22 جنوری کو شہریت میں ترمیم کے نئے قانون کی آئینی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہروں کو آج چھٹا روز ہے جن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مزید شدت آگئی۔نئی دہلی میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جو شہریت کا متنازع قانون واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پتھر اور کانچ کی بوتلیں برسارہے تھے۔ علاوہ ازیں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مزید مظاہرے کیے جانے کا امکان بھی ہے۔بھارت میں مظاہروں مییں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار وسیم احمد خان کا کہنا تھا کہ پولیس زبردستی کیمپس میں داخل ہوئی، انہیں کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ ہمارے اسٹاف اور طلبہ کو مارا گیا اور انہیں کیمپس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ شہریت ترمیمی بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنا ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

News Code 1896301

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 11 =