روس کے خلاف لڑنے والے مجاہد ، امریکہ کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دہشت گردی کی تاریخ کو ہزاروں سال پر محیط قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان جب روس کےخلاف لڑرہےتھےتووہ مجاہدین تھے امریکی قابض افواج کےخلاف جب یہی مجاہدین لڑتے ہیں تووہ دہشت گرد کہے جاتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دہشت گردی کی تاریخ کو ہزاروں سال پر محیط قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان جب روس کےخلاف لڑرہےتھےتووہ مجاہدین تھے امریکی قابض افواج کےخلاف جب یہی مجاہدین لڑتے ہیں تووہ دہشت گرد کہے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد تشدد کے ذریعے اپنے نظریات کو لاگو اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں، جب کہ ملک میں غیر یقینی کی فضا قائم کرنے والے بھی دہشت گردی ہوتے ہیں۔

فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں ججز سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، افغان طالبان جب روس کےخلاف لڑرہےتھےتووہ مجاہدین تھے، امریکی قابض افواج کےخلاف جب یہ مجاہدین لڑےتودہشت گرد قرار دیئےگئے، اس تاریخی تناظر سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی آج کا نہیں پرانا مسئلہ ہے، پوری دنیا میں ریسرچ کی جارہی اور پوری دنیا اس کا حل نکالنا چاہتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے، دہشتگردی میں سیاسی، نظریاتی اور مذہبی نظریات جیسے 3 پہلو ہیں، سیاسی ومذہبی مقاصد کے لیے دنیا بھر میں تشدد کے طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں، نائن الیون کے بعد اسلامک بنیاد پرستوں نے امریکہ میں حملہ کیا، سپریم کورٹ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی تعریف سےمتعلق فیصلہ دے چکی ہے، دہشت گرد تشدد کے ذریعے اپنے نظریات کو لاگو اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں، جب کہ ملک میں غیر یقینی کی فضا قائم کرنے والے بھی دہشت گرد ہوتے ہیں، دہشت گردی کی روک تھام کےلیےحکومت کومؤثراقدامات کرنے ہوں گے۔

News Code 1896298

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 10 =