مغربی بنگال کی وزیر اعلی کا شہریت سے متعلق بھارتی ترمیمی قانون لاگو نہ کرنے کااعلان

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران کہا ہے کہ ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لاگو ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے این ڈی ٹی وی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران کہا ہے کہ ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لاگو ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق کلکتہ میں احتجاجی مارچ کے دوران ممتا بینرجی نے وفاق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی حکومت میں ہمت ہے تو ان کی حکومت ختم کردے لیکن ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لاگو ہوگا۔

احتجاجی مارچ کے دوران ممتا بینرجی کی جماعت کے سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنان نے متنازع قانون کے خلاف پوسٹرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں ریاست میں شہریت قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی، آپ چاہیں تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں لیکن میں اس کالے قانون پر کبھی عملدرآمد نہیں کروں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس قانون کے خاتمے تک جمہوری طریقے سے احتجاج جاری رکھیں گے، اگر وہ بنگال میں اس قانون پر عملدرآمد چاہتے ہیں تو انہیں یہ میری لاش پر سے گزر کر کرنا ہوگا۔

ممتا بینرجی نے کہا کہ یہ کوئی مذہب کی بنیاد پر لڑائی نہیں ہے، بلکہ یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بنگال کے احتجاجی مارچ کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے ریاستی گورنر جَگدیپ ڈھنکھار نے کہا کہ 'میرے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اور وزرا نے شہریت قانون کے خلاف ریلی کی قیادت کی۔

News Code 1896251

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 7 =