امریکہ کا ممنوعہ میزائل کا تجربہ، روس کی مذمت

امریکہ نے روس سے ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کو ختم کرنے کے بعد پہلی بار ممنوعہ پروٹو ٹائپ بلاسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے روس سے ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے کو ختم کرنے کے بعد پہلی بار ممنوعہ پروٹو ٹائپ بلاسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ 

میزائل کو کیلی فورنیا کے وینڈن برگ ایئربیس کے اسٹیٹک لانچ اسٹینڈ سے مار کیا گیا جو 500 میل سے زائد کا سفر طے کرنے کے بعد بحرالکاہل سمندر میں گرگیا۔

پینٹاگون سے جاری بیان میں کامیاب تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میزائل نے 500 میل سے زائد فاصلہ طے کر ہدف کو بحرالکاہل میں کھلے سمندر میں نشانہ بنایا تاہم بیلسٹک میزائل کی قسم اور ساخت سے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ میزائل غیر جوہری وار ہیڈ سے لیس ہو کر وار کرنے صلاحیت سے مالا مال ہے۔

ادھر روس کے صدر پوتن نے امریکہ کی جانب سے میزائل ٹیسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ہمیں خبردار کیا گیا ہے۔ یہ ایک طرح کا جنگ کا اعلان ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔ صدر پوتن نے یہ بات اسلحہ سازی کے ڈپارٹمنٹ کے افسران کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

واضح رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان 1987ء میں ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 500 کلومیٹر سے 5 ہزار 500 کلومیٹر کی رینج تک کے کروز میزائل کی تیاری پر پابندی عائد ہوگئی تھی تاہم صدر ٹرمپ نے رواں برس اکتوبر میں انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر معاہدے سے دست برداری کا اعلان کردیا تھا۔

News Code 1896196

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =