روہنگیا مسلمانوں نے آنگ سانگ سوچی کے بیان کو مسترد کردیا

روہنگیا مسلمانوں نے نوبل انعام یافتہ نام نہاد سابقہ جمہوریت پسندی کی علامت آنگ سانگ سوچی کی عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی حیثیت سے اپنے ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کو مفروضہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے  نوبل انعام یافتہ نام نہاد سابقہ جمہوریت پسندی کی علامت آنگ سانگ سوچی کی عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی حیثیت  سے اپنے ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کو مفروضہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کردیا۔

اطلاعات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی سرکاری فوج کے مظالم اور نسل کشی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش کی سرحد پر پناہ لینے والے اراکان روہنگیا سوسائٹی برائےامن و انسانی حقوق کے چیئرمین محمد محب اللہ نے کہا ہے کہ آنگ سانگ سوچی کا عالمی عدالت انصاف میں دیا گیا بیان حقیقت کے منافی ہے ۔

 کاکس بازار میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں نیوز ایجنسی سے بات چیت  میں محب اللہ نے کہا کہ چور کبھی اپنی چوری کا اعتراف نہیں کرتا لیکن شواہد اور ثبوتوں سے انصاف ممکن ہے، عالمی برادری ہم سے سرکاری فوج کے مظالم اور روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرسکتے ہیں۔

 محب اللہ نے کہا کہ دنیا ثبوتوں کے بغیر آنگ سانگ سوچی کے دعوؤں کا فیصلہ نہیں کرے گی، ہمارے پاس ثبوت ہیں جو دنیا حاصل کرسکتی ہے، یہاں تک کہ اگر آنگ سانگ سوچی جھوٹ پر جھوٹ بولتی ہے تو بھی انہیں بخشا نہیں جائے گا،انہیں یقیناً انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا اور دنیا کوبھی اس کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف میں  آنگ سانگ سوچی نے  میانمار کی سربراہ کی حیثیت سے اپنے ملک میں ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا دفاع کیاتھا، انہوں نے کہا کہ  2017 میں ہونے والے فسادات ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔

News Code 1896126

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 1 =