آسام میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف مظاہرے جاری/ حکومت نے فوج طلب کرلی

بھارتی لوک سبھا سے کثرت رائے سے شہریت ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد آج راجیہ سبھا میں بھی پیش کردیا گیا ہے اور اسی دوران مسلم مخالف متنازع بل کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران آسام میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی لوک سبھا سے کثرت رائے سے  شہریت ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد آج راجیہ سبھا میں بھی پیش کردیا گیا ہے اور اسی دوران مسلم مخالف متنازع بل کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران آسام میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق لوک سبھا سے پیر کے روز منظوری کے بعد شہریت سے متعلق مسلم مخالف متنازع بل کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج ایوان بالا راجیہ سبھا میں بھی پیش کردیا ہے اور بل پر اراکین کی جانب سے دھواں دھار تقریروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد بل پر رائے شماری کی جائے گی۔

ادھر متنازع بل کیخلاف بھارت بھر میں 2 روز سے مظاہرے جاری ہیں، سب سے زیادہ مظاہرے ریاست آسام میں جاری ہیں جہاں طلبا سڑکوں پر نکل آئے اور مودی سرکار کیخلاف نعرے بازی کی۔ حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب پولیس کی فائرنگ سے چند طلبا زخمی ہوئے جس کے بعد فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

ریاست آسام میں دو ماہ قبل ہی 20 لاکھ مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا، یہ وہ لوگ تھے جوکئی نسلوں سے آسام میں ہی آباد تھے۔ یہ کارنامہ بھی بی جے پی کے ایک رکن نے 2014 میں سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ درج کراکے انجام دیا تھا۔ جس کے باعث آسام میں شہری پہلے ہی اشتعال میں تھے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز بھارتی لوک سبھا میں کثرت رائے سے منظور ہونے والے بل میں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی 6 مذہبی اکائیوں ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کی تجویز رکھی گئی ہے اور مسلمانوں کو محروم رکھا گیا ہے جس پرامریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارتی قیادت پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔

News Code 1896109

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =