بھارتی لوک سبھا میں غیرمسلم تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے کا متنازع بل پیش

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں غیر مسلم تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا متنازع بل پیش کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا میں غیر مسلم  تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا متنازع بل پیش کردیا ہے۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کے سوا چھ مذاہب کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے احتجاج کے سائے میں متنازع بل پیش کیا جس کے حق میں 293ووٹ آئے جبکہ 82اراکین اسمبلی نے اسے مسترد کردیا۔ اس بل کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندوؤں سمیت دیگر اقلیتوں کو بھارت کی شہریت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ امیت شاہ نے لوک سبھا میں یہ بل پیش کرتے ہوئے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس پر بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ بل کیوں ضروری ہے، یہ اس لیے ضروری ہے کہ کیونکہ کانگریس نے ملک کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا اور یہ بات تاریخ کا حصہ ہے۔

کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا گیا جس کے سبب بل کو پیش کرنے کا عمل تاخیر کا شکار ہوا۔

انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکتے کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل آرٹیکل 14(قانون سے قبل برابری) کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر ہمارے ملک میں اقلیتوں کو خصوصی مقام کیوں حاصل ہے۔

اس بل کے تحت غیرمسلم تارکین وطن کے لیے بھارتی شہریت کا حصول ممکن ہو جائے گا تاہم اپوزیشن کا ماننا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ آئین کی خلاف ورزی ہو گی کیونکہ حکومت خود ہی عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر رہی ہے۔امیت شاہ نے مسلمانوں کے سوا تمام چھ اقلیتوں کو شہریت دینے کی تقسیم کو بالکل مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان مسلم ریاستیں ہیں اور یہاں مسلمانوں سے برا سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔وزیرداخلہ نےکہا کہ پڑوسی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی ظلم وستم نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس بل کا فائدہ انہیں نہیں ملے گا، اگرایسا ہوا تویہ ملک انہیں بھی اس کا فائدہ دینے پر غور کرے گا۔وزیر داخلہ نے مزید واضح کیا کہ یہ تاثر دینا بالکل غلط ہے کہ اس بل کے بعد مسلمان تارکین وطن بھارت شہریت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

News Code 1896060

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 0 =