عرب حکام کی مسئلہ فلسطین میں امریکہ اور اسرائیل کے پیروی / عرب اقوام محو حیرت

اسرائیل کی عرب ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات کو فروغ دینے کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے اور اس نے امریکہ کے ذریعہ عرب اقوام پر ایسے حکام مسلط کروائے ہیں جو مسئلہ فلسطین میں امریکہ اور اسرائیل کے نہ صرف پیروکار ہیں بلکہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو بھی تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی عرب ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات کو فروغ دینے کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے اور اس نے امریکہ کے ذریعہ عرب اقوام پر ایسے حکام مسلط کروائے ہیں جو مسئلہ فلسطین میں امریکہ اور اسرائیل کے نہ صرف پیروکار ہیں بلکہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو بھی تحفظ فراہم کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے سن 2002 میں اسرائیل اور اعراب تنازعہ ختم کرنے کے لئے عربی امن منصوبہ پیش کیا تھا جس کے مطابق اسرائیل کو 1968 جنگ میں غصب شدہ علاقوں سے عقب نشینی کرنی تھی اور مشرقی بیت المقدس کو اس منصوبے کے مطابق فلسطین کا دارالحکومت قراردیا گیا تھا ۔ سعودی عرب کے اس منصوبے کے تحت عرب ممالک کو  اسرائیل کے ساتھ  سیاسی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے تھے سعودی منصوبے میں فلسطینیوں کو اپنے گھروں کو لوٹنے کا سلب کیا گیا تھا ۔ ادھر اسرائیل کی توجہ  مسئلہ فلسطین کے حل پر مرکوز نہیں بلکہ اس کی توجہ عرب ممالک کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات استوار کرنے پر مرکوز ہے۔اسرائیل کے ایک سابق وزیر ایوب قرا نے کہا ہے کہ تمام اسرائیلی آئندہ برس سے خلیج فارس کے عرب ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات برقرار کرنے میں آزاد ہیں اور وہ خلیج فارس کے عرب ممالک میں رفت و آمد کے بھی مجاز ہیں ۔ اسرائیل نے بحرین کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کا آغاز کردیا ہے۔

عرب ذرائع کے مطابق عرب حکام کی توجہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر مرکوز ہے جبکہ عرب حکام کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ آشکارا خیانت کو عرب اقوام اور عوام حیرت اور تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔

News Code 1895889

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 6 =