افغان صدر کا امن منصوبہ غیر حقیقی اور خواہشات کی فہرست ہے، عبداللہ عبداللہ

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان صدر اشرف غنی کے 7 نکاتی امن منصوبے کو غیر حقیقی اور خواہشات کی فہرست قرار دے دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان صدر اشرف غنی کے 7 نکاتی امن منصوبے کو غیر حقیقی اور خواہشات کی فہرست قرار دے دیا۔

اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اشرف غنی کی ٹیم نے گزشتہ ماہ 7 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس میں ملک میں جنگ کے خاتمے کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سچ پوچھیں تو کسی نے بھی اس نام نہاد 7 نکاتی منصوبے کو بطور منصوبہ نہیں لیا بلکہ تجویز محض خواہشات کی فہرست تھی۔  اے ایف پی کے مطابق اشرف غنی کی مذکورہ تجویز پر غیر حقیقت پسندانہ طبقے نے کڑی تنقید کی، جس میں طالبان سے مذاکرات سے قبل ایک ماہ کے لیے جنگ بندی معاہدہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تجویز کو بشمول عوام کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کے لیے یہ لازمی ہے کہ فریقین افغان حکومت کے وفد کو شامل کریں، خواہ وہ ان کی سربراہی میں ہوں یا اشرف غنی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو افغان امن عمل کا ایک حصہ بننا ہوگا۔

اس ضمن میں اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے عبداللہ عبداللہ کے موقف پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی کے 7 نکاتی منصوبے پائیدار امن کا ضامن ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات رواں برس ستمبر میں منسوخ کردیے تھے۔

News Code 1895186

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 3 =