یورینیم کی یومیہ پیداوار 5 کلو گرام سے زائد تک پہنچ گئی

اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ نے ملک میں یورینیم کی پیداوار کے بارے میں اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران میں یورینیم کی یومیہ پیداوار 5 کلو گرام سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ملک میں یورینیم کی پیداوار کے بارے میں اعلان کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران میں یورینیم کی یومیہ پیداوار 5 کلو گرام سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔ صالحی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ،  ایران اور 6 ممالک روس، چین،  فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان منعقد ہوا۔ صالحی نے کہا کہ فنی لحاظ سے ہم ایران کے اعلی حکام خاص طور پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کی سفارش کے مطابق ایران کے پرامن ایٹمی حقوق کی پاسداری کرنے کے پابند تھے اور ہم نے ثابت کردیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور اس سلسلے میں ہم نے عالمی طاقتوں کے بعض سخت شرائط کو بھی تسلیم کرلیا ، لیکن ایران کے ایٹمی حقوق کے تحفظ اور حصول کے لئے ہم نے کچھ ضمانتیں دیں اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ہم نے اپنے وعدوں پر عمل بھی کیا۔ لیکن امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور یورپی ممالک نے بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا لہذا ایران نے ایک سال صبر کرنے کے بعد اپنے وعدوں میں گام بگام کمی لانے کا فیصلہ کیا اور اب ہم نے تیسرے گام میں یورینیم کی یومیہ پیداوار کو 5 کلو گرام سے زائد کی مقدارتک پہنچا دیا ہے۔ صالحی نے کہا کہ ایران نےسنٹریفیوج  آئی آر 9 کی آج رونمائی کی ہے اور آئندہ دو ماہ میں انھیں نصب کردیا جائےگا۔ صالحی نے کہا کہ اگر ایران کے اعلی حکام حکم دیں تو 20 فیصد یورینیم کی افزودگی کا عمل 4 منٹ میں انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔

News Code 1895136

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 4 =