عراق کے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کے لئے عراقی دینی مرجعیت کا نقشہ راہ

عراقی دینی مرجعیت کی طرف سے گذشتہ روز جاری ہونے والے بیان میں عراق کے سیاسی مستقبل کے لئے بہترین نقشہ راہ پیش کیا گیا ہے جس میں عراق میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر بھی توجہ دی گئي ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق عراقی دینی مرجعیت کی طرف سے گذشتہ روز جاری ہونے والے بیان میں عراق کے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کے لئے بہترین نقشہ راہ پیش کیا گیا ہے جس میں عراق میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر بھی توجہ دی گئي ہے۔

عراق کے شیعوں کے مرجع عالی قدر آیت اللہ سیستانی نے حال ہی میں ایک بیان صادر کیا ہے جس میں کئی اہم نکات شامل ہیں ۔ اس بیانیہ میں عراق کے موجودہ شرائط کو بیان کرتے ہوئے عراق کو ہرج و مرج اور اشوب کی طرف لے جانے کے بارے میں خـبردار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ عوام کے پرامن احتجاج کو عراقی سکیورٹی دستوں اور عوام کے درمیان جھڑپوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے بےگناہ افراد کا خون بہایا گیا۔ یہ ہمارا قیمتی خون ہے جسے بہت بڑی سازش کے تحت بہایا گیا۔

عراقی اعلی دینی مرجع آیت اللہ سیستانی نے اپنے بیان میں عوام کے پرامن مظاہروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن عناصر نے عوام کو فائرنگ کا نشانہ بنایا انھوں نے ہی سکیورٹی فورسز کے عناصر کو بھی نشانہ بنایا  اور رعاقی عوام اور عراقی سکیورٹی دستوں کو آپس میں لڑآنے کی سازش کی۔ اغیار سے وابستہ عناصر عوامی مظاہروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں لہذا عراقی عوام کو اس موقع پر ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔

عراقی عوام نے بھی موجودہ شرائط کو درک کرتے ہوئے عراقی دینی مرجع کے بیان کی بھر پور حمایت کی ہے ۔ عراقی دینی مرجع نے کے بیان میں 2 بنیادی نکات ہیں جن میں ایک نکتہ یہ ہے کہ بعض سیاسی عناصر احتجاجی مظاہروں کو عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی  اور وزیر داخلہ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اورعراق میں موجودہ بے روزگاری اور کرپشن کا الزام ان پر عائد کررہے ہیں جبکہ عراق کے موجودہ شرائط کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک ہیں جنھوں نے داعش دہشت گرد تنظیم کے ذریعہ عراق میں بڑے پیمانے پر فساد برپا کیا ہے۔

عراقی دینی مرجع نے دوسرے بنیادی نکتہ میں عراق کے تمام سیاسی رہنماؤں پر زوردیا ہے کہ وہ عراق کے بہتر ساسی اور اقتصادی مستقبل کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور امریکہ و سعودی عرب کے نقشہ راہ پر چلنے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ دونوں ممالک عراقی عوام کے سر فہرست دشمنوں میں سے ہیں اور وہ  عراقی قوم کے خیر خواہ نہیں وہ ڈالرز لگا کر عراق کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کررہے ہیں لہذا عراق کے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کو بہتر بنانےکے سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی تعاون اور اتحاد و یکجہتی کے ساتھ  آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

News Code 1895059

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =