روس کا امریکہ پر شام ميں تیل کی حفاظت کے بہانے ڈکیتی ڈالنے کا الزام

روس نے شام میں تیل کے تحفظ کے بہانے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو عالمی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس نے شام میں تیل کے تحفظ کے بہانے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو عالمی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں  تیل کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے امریکہ کی جانب سے شام میں تیل کی تنصیبات پر مزید فوجی تعینات کرنے کو  بین الاقوامی ڈکیتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے نام پر شام کی آئیل فیلڈز پر قبضے اور انھیں اپنے کنٹرول میں لانا چاہتا ہے۔

بیان میں ان تنصیبات کے داعش کے قبضے میں ہونے کے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ شام میں ہائیڈرو کاربن کے تمام ذخائر داعش کے قبضے میں نہیں اور نہ ہی یہ داعش سے برسرپیکار مقامی دہشت گردوں  کے قبضے میں ہے بلکہ یہ تنصیبات کلی طور پر شامی حکومت کی ملکیت ہیں۔

 روس کے جانب سے یہ بیان  امریکہ کے  شام میں تیل کے کنوؤں کے تحفظ کے لیے اپنے فوجی تعینات کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ تیل کے ان کنوؤں میں سے بعض پر امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کا قبضہ ہے جب کہ اکثریت پر شامی حکومت کی ملکیت ہے۔واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے شام کے صوبہ دیرالزور میں آئیل فیلڈز کے تحفظ کے لیے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا علان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیل کے یہ وسائل داعش یا دوسرے  دہشت گردوں  کے ہاتھ  لگ جانے کے خدشہ ہے۔

News Code 1894919

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =