دہی کے مسلسل استعمال سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے

ایک تحقیق اور سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دہی کا مسلسل استعمال کیا جائے تو اس سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایک تحقیق اور سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دہی کا مسلسل استعمال کیا جائے تو اس سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔  اگر اس میں ریشے دار " فائبر" غذائیں بھی استعمال کی جائیں تو مزید بہتری پیدا ہوتی ہے۔

اندازہ ہے کہ ریشے دار غذائیں اور ایک کپ دہی کا روزانہ استعمال کیا جائے تو اس سے کینسر کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہی میں خاص قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو سرطان کو روکتے ہیں اور اندرونی سوزش کم کرتے ہیں۔ دہی میں پروبایوٹکس بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ناش ویلی، ٹیننسی میں واقع وینڈربلٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ڈیری مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، میگنیشیئم، وٹامن کے ون اور کے ٹو اور زندہ بیکٹیریا یعنی پروبایوٹکس بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا مل کر صحت مند غذا کی تشکیل کرتے ہیں ایک اور تحقیق کے مطابق دہی اور پنیر کھانے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

News Code 1894913

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 1 =