ترکی کا کردوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

ترکی کے وزیر خارجہ نے شام میں کردوں کے خلاف جاری آپریشن روکنے کا معاہدہ طے پانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کردوں کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ امریکہ کے ساتھ ہوا ہے اور کردوں کو سرحدی علاقوں سے کوچ کرنا پڑےگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈیلی صباح کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کے وزیر خارجہ نے شام میں کردوں کے خلاف جاری آپریشن روکنے کا معاہدہ طے پانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کردوں کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ امریکہ کے ساتھ ہوا ہے اور کردوں کو سرحدی علاقوں سے کوچ کرنا پڑےگا۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے  کہ کردوں کے ساتھ کوئی سیز فائر نہیں ہوگی کیونکہ جنگ بندی 2 قانونی قوتوں کے درمیان ہوتی ہے۔ترک وزیر خارجہ چاوش اوغلو نے کہا کہ انقرہ نے شام میں عارضی طور پر جنگ بندی کردی ہے اور کردوں کو اجازت دی ہے کہ وہ خطے سے نکل جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ شام میں سیف زون کے قیام کے باعث ترک قومی سلامتی کو امریکہ نے تسلیم کیا ہے اور یہ معاہدہ طے پاگیا ہے کہ اس سیف زون کا مکمل کنٹرول ترک فوج کے پاس ہوگا۔ اور سیف زون شام کے اندر 32 کلو میٹر تک قائم کیا جائےگا ۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ  جو کرد جنگجو علاقہ چھوڑ کر جائیں گے انہیں اپنے بھاری ہتھیار واپس کرنے ہوں گے اور اپنے مورچے تباہ کرنے پڑیں گے۔

News Code 1894666

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 9 =