ایران نے صبر و تحمل اور استقامت  کے ساتھ  سخت اور مشکل شرائط کو پیچھے چھوڑدیا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں امریکہ کی ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران سخت اور مشکل شرائط سے اگے بڑھ گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے صحافیوں سے گفتگو میں امریکہ کی ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران سخت اور مشکل شرائط سے اگے بڑھ گیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے صدارتی محل میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں کربلائے معلی میں اربعین کے عظیم الشان اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حسینی اربعین نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو آپس میں متحد کردیا ہے اور تمام مسلمان حضرت امام حسین علیہ السلام کے پرچم کے سائے میں ایک جگہ جمع ہوگئے ہیں اور یہ عظیم اجتماع اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور عظمت کامظہر ہے۔

صدر روحانی نے عراقی عوام اور حکومت کی طرف سے زائرین اربعین کو خدمات بہم پہنچانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام اور حکومت کی میزبانی قابل فخر اور قابل تعریف ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہم نے سخت شرائط کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ہم نے خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کی سازشوں کو ناکام بنادیا ہے۔ ہم نے صبر و تحمل اور استقامت و پائداری کے ساتھ بحرانی شرائط سے عبور کرلیا ہے ۔ ہم درست، ترقی اور پیشرفت کے راستے پر گامزن ہیں۔

صدر حسن روحانی نے شام کے بحران کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کے ساتھ سرحدوں پر شامی فوج کی تعیناتی اس کا بہترین حل ہے اور شام و ترکی کو باہمی مسائل مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

صدر حسن روحانی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپی ممالک نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ایران بھی بتدریج اس معاہدے سے خارج ہوجائے گا ۔

صدر حسن روحانی نے ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کا ذمہ دار ایک ملک کو قراردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ایرانی آئل ٹینکر پر ایک ملک ملوث ہے اور ایران اس کا مناسب وقت پر مناسب جواب دےگا۔

News Code 1894576

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =