فضل الرحمن کے دھرنے نے شہباز شریف اور نواز شریف کو دھر لیا

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے فضل الرحمن کے دھرنے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف نے دھرنے میں بھر پور شرکت کی تاکید کی ہے فضل الرحمن کے دھرنے نے شہبازشریف اور نواز شریف کو آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستنای ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے فضل الرحمن کے دھرنے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف نے دھرنے میں بھر پور شرکت کی تاکید کی ہے فضل الرحمن کے دھرنے نے شہبازشریف اور نواز شریف کو آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہباز شریف ،نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان پر ناراض ہوگئے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے جیل میں نواز شریف سے ہفتہ وار ملاقات بھی نہیں کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعرات کو شہباز شریف کو کوٹ لکھ پت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرنا تھی تاہم شہباز شریف کمر درد کے باعث نواز شریف سے ملاقات کے لئے جیل نہیں پہنچ سکے تھے۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق درحقیقت شہباز شریف کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے مارچ میں شرکت کے اعلان پر ناراض ہیں ، اسی وجہ سے انہوں نے نواز شریف سے ملاقات نہیں کی ۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انھوں نے نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اقدام نہ کرنے کی سفارش کرتے رہے ہیں لیکن انھوں نے کبھی ان کی اس سفارش کو قبول نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نظریاتی اعتبار سے دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

News Code 1894489

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 2 =