سعودی عرب نے 21 پاکستانیوں سمیت 134 افراد کے سر قلم کردیئے

سعودی عرب نے رواں برس21 پاکستانیوں سمیت 134 افراد کے سر قلم کردیئے سر قلم ہونے والوں میں 6 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں سعودی عرب معاویائی، یزیدی اور امریکی اسلام پر گامزن ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب نے رواں برس21 پاکستانیوں سمیت 134 افراد کے سر قلم کردیئے سر قلم ہونے والوں میں 6 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں سعودی عرب معاویائی، یزیدی اور امریکی اسلام پر گامزن ہے۔ گزشتہ برس2018 میں سعودی عرب نے 149 افراد کو پھانسی دی، یہ انکشاف جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔

برطانوی میڈیا نے رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ سعودی عرب میں رواں برس میں اب تک 134افراد کے سرقلم کرچکا ہے، ان میں سے 6 بچے  اور 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ ڈیتھ پنلٹی پروجیکٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مزید 24افراد کو پھانسی کا خطرہ ہے جن میں 3بچے، سیاسی مخالفین ، علما اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔ رواں برس پھانسی دیئے جانے والوں میں کم از کم 58 غیر ملکی شہری تھے۔

سزائے موت پانے والوں میں21پاکستانی، 15یمنی، 5شامی اور چار مصری تھے، اس کے علاوہ دو اردن، دو نائیجیریا، ایک صومالیہ کے شہری ہیں جب کہ دو کی شناخت نہیں بتائی گئی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب دنیا میں معاویائی ، یزیدی اور امریکی اسلام کو فروغ دے رہا ہے اور رحمۃللعالمین کے اسلام سے وہابیوں اور سعودیوں کا کوئی واسطہ نہیں وہ بنی امیہ کے پرچم کے علمبردار ہیں۔

News Code 1893823

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 2 =