کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللّٰہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت زیر حراست

مودی سرکار نے کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللّٰہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کا حکم نامہ سپریم کور ٹ میں معاملہ آنے سے چند گھنٹے پہلے ہی جاری کیا تا کہ بغیر کسی حکم حراست میں رکھنے پر سبکی سے بچا جاسکے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللّٰہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کا حکم نامہ سپریم کور ٹ میں معاملہ آنے سے چند گھنٹے پہلے ہی جاری کیا تا کہ بغیر کسی حکم حراست میں رکھنے پر سبکی سے بچا جاسکے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللّٰہ کے زیر حراست نہ ہونے کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے نریندر مودی سرکار کا کشمیر کے حوالے سے موقف مسترد کیا تو امیت شاہ کا جھوٹ بھی بے نقاب ہوگیا۔ سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللّٰہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قانون کے تحت حراست میں رکھا ہوا ہے، یہ قانون 2 سال تک بغیر ٹرائل حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

مودی سرکار نے فاروق عبداللّٰہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کا حکم نامہ سپریم کور ٹ میں معاملہ آنے سے چند گھنٹے پہلے ہی جاری کیا تا کہ بغیر کسی حکم حراست میں رکھنے پر سبکی سے بچا جاسکے۔ فاروق عبداللّٰہ 5 اگست کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے 6 اگست کو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ جھوٹ بولا تھا کہ لوک سبھا رکن فاروق عبداللّٰہ اپنی مرضی سے اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہورہے۔امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں یہ بھی کہا تھا کہ فاروق عبداللّٰہ نظر بند نہیں اور نہ ہی انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے فاروق عبداللّٰہ کی حراست کے خلاف اور عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواست پر مودی سرکار سے جواب طلب کیا ہے، کیس کی مزید سماعت 30 ستمبر کو ہوگی۔

News Code 1893816

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 0 =