برطانوی کشتی کو عنقریب آزاد کردیا جائےگا/ ٹرمپ اور روحانی کی ملاقات نہیں ہوگی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ برطانیہ کی ضبط شدہ کشتی آئندہ چند دنوں ميں آزاد کردی جائےگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے برطانیہ کی تیل بردار کشتی کو عنقریب آزاد کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  برطانیہ کی ضبط شدہ کشتی آئندہ چند دنوں ميں آزاد کردی جائےگی۔ ترجمان نے ایرانی وزیر خارجہ کے بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا اور بعض دیگر ممالک کے دوروں ی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شرائط مہیا ہوئے تو جواد ظریف صدر روحانی کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے نیویارک بھی جائیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر یمنی فوج کے ڈرون حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں ۔ امریکہ گذشتہ پانچ سال سے یمن کے نہتے عوام کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی بھر پور حمایت کررہا ہے اور وہ یمنی عوام سے دفاع کے حق کو بھی سلب کرنا چاہتا ہے یمنی عوام کو اپنے ملک و قوم کے دفاع کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اخلاقی ، انسانی اور اسلامی بنیادوں پر فلسطینیوں، لبنانیوں ، یمنیوں اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرتا ہے لیکن ایران ان کے اندرونی معاملات ميں مداخلت نہیں کرتا۔ موسوی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ضمن ميں صدر روحانی اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پر مبنی خبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات انجام پذیر نہیں ہوگی کیونکہ ایرانی قوم اور حکومت کے نزدیک امریکہ قابل اعتماد ملک نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے برطانوی ضبط شدہ کشتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اقدامات آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد برطانوی کشتی کو آزاد کردیا جائےگا۔

News Code 1893812

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 8 =