پاکستان کا بھارت سے بیک چینل مذاکرات سے انکار

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بعض ممالک کے اصرار کے باوجود بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے " بیک چینل " مذاکرات شروع کرنے سے انکارکردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بعض ممالک کے اصرار کے باوجود بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے " بیک چینل " مذاکرات شروع کرنے سے انکارکردیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء خارجہ ان سیاسی رہنماؤں میں شمال ہیں جنھوں نے پاکستان پر زوردیا کہ وہ بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کا آغاز کردے ۔ متحدہ عرب امارات نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیر کا معاملہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ ملاقاتیں اتنی خفیہ تھیں کہ وزارت خارجہ کے صرف سینئر حکام کو ہی ان میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔ایک اعلیٰ افسر کے بقول سعودی اور اماراتی ایلچیوں نے کشمیر پر کشیدگی ختم کرانے کی بھی پیشکش کی تھی۔ وہ دونوں ملکوں کو بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہتے تھے۔وہ کشمیرمیں پابندیاں ختم کرانے کیلیے بھارت کو اس بات پر آمادہ کرنے کو بھی تیار تھے اور ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں لب ولہجے میں نرمی لائی جائے۔ 5 اگست کے بعد سے وزیراعظم عمران خان مودی کے بارے میں باربار سخت الفاظ استعمال کررہے ہیں۔

عمران خان ، بھارتی وزیر اعظم مودی کے آرایس ایس کے ساتھ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں نازی جرمنی کے لیڈرایڈولف ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہیں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں بھی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ان پر کیے جانے والے سخت حملوں کی شکایت کرچکے ہیں۔

News Code 1893803

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 8 =