برطانوی وزیر اعظم کوپارلیمنٹ میں پہلی شکست

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ پالیسی پر پہلی ہی رائے شماری میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ پالیسی پر پہلی ہی رائے شماری میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پیش کردہ ہاؤس کا انتظام براہ راست سنبھالنے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ اطلاعات کے مطابق قرار داد کے حق میں 328 ووٹ جبکہ مخالفت میں 301 ووٹ آئے، بورس جانسن کی اپنی پارٹی کے اراکین نے بھی ان کے خلاف ووٹ دیا۔ حکمران کنزرویٹیو جماعت کے 20 سے زائد اراکین نے حکومت کے خلاف ووٹ دیا۔ وزیر اعظم بورس جانسن نے قبل از وقت انتخابات کی قرارداد پیش کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبل از وقت انتخابات کے لیے پارلیمنٹ میں تحریک پیش کروں گا ۔ ایوان نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج ارکان نے بریگزٹ کے لا حاصل التوا کے حق میں ووٹ دیا تو قبل از وقت الیکشن ہی مسئلے کے حل کا واحد راستہ ہوگا۔واضح رہے کہ قبل از وقت انتخابات کے لئے اراکین پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ارکان پارلیمنٹ کو آج بل پر دوبارہ ووٹنگ کی اجازت مل گئی جس کے تحت بورس جانسن کو انیس اکتوبر تک برسلز کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا ورنہ بریگزٹ تین ماہ کے لیے موخر ہو جائے گا۔

News Code 1893474

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 4 =