بھارت نے سرزمین بہشت کو جہنم میں تبدیل کردیا

کشمیر میں تقریبا ایک ماہ سے کرفیو نافذ، موبائل اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بند ہیں اور اسکول ویران پڑے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریبا ایک ماہ سے کرفیو نافذ اور موبائل، انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بند ہیں اور اسکول ویران پڑے ہیں۔ کشمیر میں تقریبا ایک ماہ سے نافذ کرفیو اور بدترین پابندیوں نے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنادی،  ہندوستانی فوج نے بھارت نواز قید سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی بدترین ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ساتھ ہی حریت رہنماؤں پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے مسلسل 28 روز ہوگئے تاحال موبائل، انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بند ہیں اور اسکول ویران پڑے ہیں۔ بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

بھارتی اخبار " دا ہندو" کے مطابق سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اہل خانہ جب ان سے ملنے گئے تو انہیں پہچاننے میں مشکل ہوئی، وہ کافی لاغر اور کمزور دکھائی دے رہے تھے اور انہیں صبح صرف ایک گھنٹہ باہر آنے کی اجازت دی جاتی ہے، اسی طرح محبوبہ مفتی بھی ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پارہی ہیں۔

تقریباً مہینہ ہونے کو آرہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں جس کے باعث غذائی بحران میں اضافہ ہوگیا ہے، زندگی بچانے والی ادویات کی بھی شدید قلت ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے کشمیر کے اسپتالوں کو قبرستان میں بدل دیا ہے اور سرزیمن بہت کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔

News Code 1893446

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 2 =