امریکی ڈرون کے سرنگوں ہونے کے بعد جنگ کا خطرہ ٹل گیا

اسلامی جمہوریہ ایران کے ايئر ڈیفنس فورس کے سربراہ نے کہا ہے کہ دوست ممالک کی انٹیلیجنس سروسز ہمیں امریکی حملے کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتی تھیں تاکہ ہم مذاکرات کی میز پر پہنچ جائیں لیکن امریکی ڈرون کی سرنگونی کے بعد جنگ کے خطرات دور ہوگئے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سپاہ نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ايئر ڈیفنس فورس کے سربراہ جنرل حاجی زادہ نے سپاہ کے قرآن مجید کے 33 ویں مقابلے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوست ممالک کی انٹیلیجنس سروسز ہمیں امریکی حملے کے بارے میں اطلاعات فراہم کررہی تھیں تاکہ ہم مذاکرات کی میز پر پہنچ جائیں لیکن امریکی ڈرون کی سرنگونی کے بعد جنگ کے خطرات دور ہوگئے۔ جنرل حاجی زادہ نے قرآن مجید کی روحانی اور معنوی فضا کے استمرار پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآنی ثقافت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہیے قرآن مجید کے سلسلے میں جو کام ہونا چاہیے تھا وہ ہوا نہیں ہے۔

جنرل حاجی زادہ نے ملک کی دفاعی قدرت اور طاقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ ہمارے مسافر بردار طیارے کو 290 مسافروں سمیت سرنگوں کرچکا ہے اور امریکی صدر نے اس عظیم حادثے پر معافی مانگنے کے بجائے مسافر بردار طیارے کو سرنگوں کرنے والے امریکی فوجی کو میڈل بھی عطا کیا ، لیکن آج حالت بدل چکی ہے ہم امریکی ڈرون کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اگر امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب بھی کرتا ہے تو اسے ایرانی دفاعی میزائل سسٹم کے ذریعہ سرنگوں کردیتے ہیں۔ جنرل حاجی زادہ نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کو نفسیاتی جنگ کا حصہ قرااردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست ممالک کے خفیہ اداروں نے ہمیں بتایا کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے لیکن ہمیں پتہ تھا کہ ایسا ہونے والا نہیں اور یہ پروپیگنڈہ صرف ایران کو مذاکرات کی میز تک پہنچانے کے لئے کیا جارہا ہے ، ہم نے امریکی ڈرون کو ایرانی فضائی حدود میں سرنگوں کرکے جنگ کے خطرات کو ملک سے دور کردیا ہے۔ جنرل حاجی زادہ نے کہا کہ اگر دشمن نے کسی غلطی کا ارتکاب کیا تو اس کا خطے سے نام و نشان مٹادیں گے۔

News Code 1893321

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 1 =