ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں کریں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزير دفاع اور مسلح افواج کی دفاعی صنعت میں رہبر معظم کے مشیر جنرل حسین دہقان نے امریکی چینل سی بی ایس کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزير دفاع اور مسلح افواج کی دفاعی صنعت میں رہبر معظم کے مشیر جنرل حسین دہقان نے امریکی چینل سی بی ایس کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

جنرل دہقان نے جنگ کے سلسلے میں ایران کی آمادگی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں خطے میں جنگ کا آغاز نہیں کریں گے لیکن اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو اس صورت میں ایران کی مسلح افواج دشمن کو دنداں شکن اور منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں۔

سی بی ایس کے نامہ نگار نے حال ہی میں امریکی ڈرون طیارے کو سرنگوں  کرنے اور امریکی صدر کی طرف سے آخری وقت میں جنگ شروع نہ کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی چور آپ کے گھر پر حملہ کرے اور آپ کے مال و جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرے تو اس صورت میں آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ امریکی ڈرون ایرانی سرحد کے اندر ایرانی اطلاعات جمع کررہا تھا اور معاندانہ کارروائی میں مشغول تھا لہذا ہم یہ تصور نہیں کرسکتے امریکی جہاز ہماری احوال پرسی کے لئے آیا تھا ہم اپنی سرحد کے اندر معاند ملک کی کسی بھی کارروائی کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ یہ کہ ٹرمپ نے جنگ کے فیصلے کو دس منٹ پہلے بدل دیا تاکہ افراد نہ مارے جائیں، یہ ایک مذاق ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ امریکیوں نے افغانستان، لیبیا،عراق، شام اور یمن میں لاکھوں افراد کو قتل کیا ہے اور یہ بات بھی سب پر واضح ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر انسانیت کا کھلا دشمن ہے۔

News Code 1893224

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 11 =