ایران کے بارے میں سعودی عرب اور امارات کے مؤقف میں واضح اور نمایاں تبدیلی

گذشتہ چند دنوں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ایران کی طرف واضح گردش عالمی ذرائع ابلاغ میں بعض دیگر موضوعات کی طرح نمایاں رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چند دنوں میں ایران کے بارے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مؤقف میں تبدیلی واضح اور نمایاں رہی ہے ذرائع ابلاغ نے سعودیہ اور امارت کی ایران کی طرف نمایاں گردش کو عالمی ذرائع ابلاغ میں بعض دیگر موضوعات کی طرح واضح طور پر بیان کیا ہے۔ امارات کے مشیر خارجہ انور قرقاش جو ایران کے خلاف سخت مؤقف کے سلسلے میں مشہور ہیں اس نے اپنے ایک ٹوئیٹر بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ  محاذ آرائی کے بجائے سیاسی مذاکرات اور گفتگو کو ترجیح دینی چاہیے۔ ادھر 6 سال کے طویل عرصہ کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارت کے کوسٹ گارڈ فورسز کا تہران میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ۔ اس کے ساتھ ہی گذشتہ چند دنوں میں متحدہ عرب امارات کے ایک اعلی وفد نے بھی تہران کا دورہ کیا۔ متحدہ عرب امارات کے وفد  کے دورے کو عرب ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا۔ اماراتی وفد کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ ادھر عبری زبان کی ایک سائٹ نے فاش کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مخفیانہ طور پر ایران کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام امور سلسلہ وار اور یکے بعد دیگرے انجام پذير ہورہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے بارے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی پیدا ہورہی ہے اور ان پر واضح ہوگيا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے بیتاب ہے تو انھیں بھی اپنے اس طاقتور ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے اور امریکہ کی پیروی اور اطاعت کو ترک کردینا چاہیے کیونکہ امریکہ انھیں مشکلات کے دلدل میں پھنسا سکتا ہے ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ ایران واحد اسلامی ملک ہے جو اپنے برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور ان کو درپیش مشکلات کے حل کے سلسلے میں انھیں اپنا گرانقدر تعاون پیش کرسکتا ہے۔ امارات نے یمن جنگ میں اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا ہے یمن جنگ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ امریکہ اور اسرائیل نے انھیں اس جنگ میں دھکیل کر انھیں بہت بڑی مصیبت میں گرفتار کردیا ہے۔ سعودی عرب کی پالیسیوں کی شام ، یمن اور عراق میں شکست بھی نمایاں ہے لہذا سعودی عرب کے ولیعہد پر یہ حقیقت بھی نمایاں ہوگئی ہے امریکہ کا ساتھ دینے کی صورت میں اس کا حشر صدام معدوم جیسا ہی ہوگا کیونکہ امریکہ مشکل میں پھنسا سکتا ہے بچا نہیں سکتا۔ اور ایران واحد اسلامی ملک ہے جو اپنے برادر اسلامی ممالک کی آخری وقت اور آخری سانس تک مدد کرسکتا ہے اور ایران نے شامی اور عراقی حکومتوں اور عوام کی مدد کرکے عملی طور پر اس بات کو ثابت بھی کیا ہے۔

News Code 1892730

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 12 =