وزیر خارجہ پر پابندی یعنی سفارتی شکست/ امریکہ دنیا میں اقتصادی دہشت گردی کا مظہر

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ نے امریکہ کی طرف سے اپنے اوپر پابندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خارجہ پر پابندی در حقیقت سفارتی اور مذاکراتی شکست کا مظہر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ نے امریکہ کی طرف سے اپنے اوپر پابندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خارجہ پر پابندی در حقیقت سفارتی اور مذاکراتی شکست کا مظہر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آج دنیامیں دو قسم کی گفتگو جاری ہے ایک گفتگو چند جانبہ مذاکرات اور صلح پر مبنی ہے جبکہ دوسری گفتگو منہ زوری، قانون شکنی اور دہشت گردی پر مبنی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقتصادی دہشت گرد ایک حقیقت ہے امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی وعام کو روٹی کی ضرورت ہے تو انھیں اپنی سیاست امریکی سیاست کے ساتھ ہمآہنگ کرنا ہوگی۔ امریکہ نے ایرانی عوام کی روٹی کو سیاست سے جوڑدیا ہے ۔ امریکہ دنیا بھر میں اقتصادی دہشت گردی کو فروغ دیکر اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دنیا میں امریکہ کی تنہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج امیرکہ اپنی غلط اور منہ زور پالیسیوں کی وجہ سے دنیا میں تنہا رہ گیا ہے کوئی بھی ملک اب امریکہ کی دونس برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔

جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی تمام معاندانہ پالیسیاں ناکام  اور اقتصادی دباؤ بھی شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ ایرانی وزیر خآرجہ نے برطانیہ کو بھی اقتصادی دہشت گردی میں امریکہ کے ساتھ شریک جرم قراردیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ بھی امریکہ کے جرائم میں برابر کا شریک ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گروپ بی کی تعداد کم ہورہی ہے اور ایران کا دسترخوان اسلامی اور برادر ممالک کے لئے باز ہے۔

News Code 1892724

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 11 =