بھارت میں گاڑی ساز صنعت میں نمایاں کمی/ 2 لاکھ سے زائد ملازمین بے روزگار

بھارت میں آٹو انڈسٹری " گاڑی ساز صنعت " کی فروخت میں کم از کم 25 فیصد نمایاں کمی ہونے کی وجہ سے شورومز تیزی سے بند ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران 2 لاکھ سے زائد ملازمین بے روز گار ہوگئے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں آٹو انڈسٹری " گاڑی ساز صنعت "  کی فروخت میں کم از کم 25 فیصد نمایاں کمی ہونے کی وجہ سے شورومز تیزی سے بند ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران 2 لاکھ سے زائد ملازمین بے روز گار ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن (ایف اے ڈی اے) نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی کر کے آٹوانڈسٹری کو ریلیف فراہم نہیں کیا تو مستقبل قریب میں ہزاروں دیگر شورومز بھی بند ہوجائیں گے۔

ایف اے ڈی اے نے خبردار کیا کہ شورومز بند ہونے کا مطلب ہے کہ مزید لاکھوں نوجوان بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ایف اے ڈی اے کے صدر اشیش ہرشارجہ نے کہا کاروں کی فروخت میں کمی کے نتیجے میں فی الحال سیلز مین کی ملازمتیں متاثرہوئی ہیں لیکن صورتحال بدستور اسی طرح قائم رہی تو تکنیکی شعبے بھی متاثر ہوں گے کیوں کہ اگر کاروں کی فروخت کم ہوگی تو سروس بھی متاثر ہوگی۔

News Code 1892702

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 4 =