ہندوستان میں اقلیتوں کے بہیمانہ قتل پر سیاسی اور سماجی شخصیات اور تنظیموں کی تشویش

بھارت کے معروف سماجی کارکنوں، فلم سازوں اور فنکاروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیخلاف بہیمانہ تشدد کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے معروف سماجی کارکنوں، فلم سازوں اور فنکاروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کیخلاف بہیمانہ تشدد کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر بڑھتے مظالم اور عدم برداشت کے واقعات عیاں ہیں، کبھی مسلمانوں کو انتہاپسندوں کی جانب سے تشدد کا نشانا بنایا جاتا ہے تو کبھی نچلی ذات کے ہندو اس ظلم کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، اس صورتحال میں خود بھارتی فلم ساز، فنکار اور معروف سماجی اور سیاسی کارکن مودی حکومت کے خلاف بول پڑے ہیں۔

ملک میں اقلیتوں کے خلاف انتہاپسندی کے واقعات پر بھارت کے 49 فلم سازوں، فنکاروں اور معروف سماجی کارکنوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو کھلا خط لکھا ہے جس میں ملک میں عدم برداشت اور مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

جن فلم سازوں اور فنکاروں نے نریندر مودی  کوخط لکھاہے ان میں مانی رنتم، کونکنا سین، انوپم رائے اور انوراگ کشیاپ شامل ہیں، خط میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو فوراً روکا جائے، پارلیمنٹ میں آپ نے ایسے واقعات پر تنقید ضرور کی تاہم صرف تنقید سے کام نہیں چلے گا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ آج کل ہر کوئی سڑک پر “جے سری رام” کا نعرہ لگا کر ایک نئی جنگ کا آغازکر رہا ہے، خط میں بھارتی وزیراعظم سے پوچھا گیا ہے کہ تشدد کرنےوالوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، گائے کے نام پر مسلمانوں کو قتل کرنے کا سلسلہ کیوں نہیں رک رہا اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا کیوں نہیں دی جا رہی؟

News Code 1892424

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 5 =