فرانس کے قومی دن کے موقع پر پولیس اور مظاہرین ميں شدید جھڑپیں

فرانس کے قومی دن برسٹل ڈے کی پریڈ کی خوبصورت اور منظم تقریبات کا اختتام پولیس اور مظاہرین کے مابین پر تشدد جھڑپوں پر ہوا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس کے قومی دن برسٹل ڈے کی پریڈ کی خوبصورت اور منظم تقریبات کا اختتام پولیس اور مظاہرین کے مابین پر تشدد جھڑپوں پر ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اتحاد کے مظاہرے کے لیے 9 یورپی افواج کے نمائندوں پر مشتمل پریڈ دیکھنے کے لیے یورپی فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ دیگر یورپی رہنما جرمن چانسلر انجیلا مرکل، نیدر لینڈ کے وزیراعظم مارک روٹ بھی موجود تھے۔

تاہم قومی دن کی تقریبات کا اختتام مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں پر ہوا جس نے یلو ویسٹ (زرد وردی) احتجاجی تحریک کی شدت کے دن یاد تازہ کردی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کی جبکہ پریڈ دیکھنے والے تماشائیوں اور خوفزدہ غیر ملکی سیاح نے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔

مظاہرین نے سیکیورٹی رکاوٹیں توڑیں، کچرا دانوں اور قابل منتقل ٹوائلٹس کو نذرِ آتش کردیا اس کے ساتھ وہ حکومت مخالف نعرے بھی لگا رہے تھے اور فرانس کے صدر میکرون سے استعفی کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔پیرس پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس کی مداخلت کی بدولت شاہراہ پر صورتحال معمول پر آگئی جبکہ پورے دن کے دوران 175 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

News Code 1892178

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 1 =