پاکستان میں لال مسجد کے خطیب  کو ہٹا دیا گيا/ ملا عبدالعزیز کے مسجد میں داخلے پر پابندی

پاکستانی انتظامیہ نے لال مسجد کے خطیب کو ہٹاتے ہوئے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے مسجد میں داخلے پر بھی 3 ماہ کی پابندی لگا دی ہے مولانا عبدالعزیز داعش اور القاعدہ کے بہت بڑے حامی ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی انتظامیہ نے لال مسجد کے خطیب کو ہٹاتے ہوئے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے مسجد میں داخلے پر بھی 3 ماہ کی پابندی لگا دی ہے مولانا عبدالعزیز داعش اور القاعدہ کے بہت بڑے حامی ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔

یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مفتی رئیس ایوبی اور گلگت بلتستان سے قاضی نثار سمیت علما کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا۔

یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیز 1998 سے 2004 تک لال مسجد کے خطیب رہے تھے اور انہیں 2007 میں لال مسجد آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے بعد عارضی بنیاد پر مولانا عبدالغفار کو خطیب اور عامر صدیقی کو نائب خطیب مقرر کیا گیا تھا، تاہم 2009 میں مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد مولانا عبدالغفار نے مسجد چھوڑ دی تھی، جس کے بعد 2014 تک اس وقت مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد میں نماز کی امامت کی تھی جب تک ان پر پابندی نہیں لگی تھی۔اس کے بعد عامر صدیقی نماز پڑھانے لگے تھے اور 3 ماہ قبل انہیں مسجد کا خطیب بنایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق لال مسجد میں پاکستان مخالف سرگرمیوں ميں ملوث افراد کو تربیت دی جاتے ہیں اس مسجد سے منسلک اکثر لوگ دہشت گردوں کی صفوں ميں شامل ہوئے سابق صدر مشرف کے دور میں اس مسجد سے بھاری مقدار ميں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔ مولانا عبدالعزیز بھی داعش کے حامیوں میں شامل ہیں۔ وہ داعش دہشت گردانہ حملوں کی کھلے عام حمایت کرتے رہتے ہیں۔

News Code 1891675

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 4 =