ایران یکطرفہ طور پر مشترکہ ایٹمی معاہدے پر باقی نہیں رہ سکتا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے سیکا سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یکطرفہ طور پر مشترکہ ایٹمی معاہدے پر باقی نہیں رہ سکتا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین حسن روحانی نے تاجیکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں  سیکا سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران یکطرفہ طور پر مشترکہ ایٹمی معاہدے پر باقی نہیں رہ سکتا۔ صدر حسن روحانی نے سیکا سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مشترکہ ایٹمی معاہدے میں شریک ممالک نے اس پر عمل نہ کیا تو ایران بھی اس سے خارج ہوجائےگا۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ بعض غیر علاقائی طاقتوں کی طرف سے علاقائی ممالک میں مداخلت کی وجہ سے مشرق وسطی میں کشیدگی اور تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی غلط اور غیر منطقی پالیسیوں کی وجہ سے علاقائی اور عالمی امن خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ امریکی صدر نے عالمی امن اور عالمی نظم کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ امریکہ نے عالمی سطح پر اقتصادی جنگ اور تجارتی دہشت گردی کا آغاز کردیا ہے جس کی وجہ سے علاقائی اور عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے خطے میں پائدار امن و سلامتی برقرار رکھنے اور استحکام پیدا کرنے کے لئے دو طرفہ اور چند جانبہ معاہدوں کی تجویز پیش کی ہے اور ایران خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنےکے سلسلے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ صدر روحانی نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے ۔ صدر روحانی نے مسئلہ فلسطین ، افغانستان، لیبیا اور یمن میں امریکی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر امریکہ کی مداخلت واضح ہے اور امریکہ عالمی سطح پر عدم استحکام اور کشیدگی پیدا کرنے کا اصلی ذمہ دار ہے۔

News Code 1891383

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 7 =