سعودی عرب کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر تشویش/ امریکہ کا خفیہ تعاون اور ایٹمی ایجنسی کی غفلت

سعودی عرب کے حساس ایٹمی اور میزائل پروگرام میں پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے،امریکہ نے بڑی مقدار میں رقم وصول کرکے سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر خفیہ حساس ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی بھی فراہم کی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی جوہری ادارے کی غفلت بھی نمایاں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امو ر کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حساس ایٹمی اور میزائل پروگرام میں پیشرفت  کا سلسلہ جاری ہے،امریکہ نے بڑی مقدار میں رقم وصول کرکے سعودی عرب کو  بڑے پیمانے پر خفیہ ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی بھی فراہم کی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی جوہری ادارے کی غفلت بھی نمایاں ہے۔ امریکی سینیٹر ٹم کین نے حال میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ  امریکی صدر ٹرمپ نے اب تک سعودی عرب کوحساس  ایٹمی توانائی منتقل کرنے کے لئے 7 بار منظوری دی ہے۔ سینیٹر ٹم کین کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری صلاحیت منتقل کرنے کی " خفیہ سرکاری منظوریاں" دسمبر 2017 سے ہی شروع ہوگئی تھیں، یہ سلسلہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعد بھی جاری رہا جس کے تحت دو مرتبہ اس نوعیت کی منظوریاں دی گئیں۔

ٹم کین کا کہنا  ہے کہ اگرچہ امریکی سی آئی اے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی رپورٹ میں سعودی ولی عہد کو جمال خاشقجی کےقتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن ٹرمپ نے سی آئی اے کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی عرب کےلیے جوہری توانائی کی مراعات جاری رکھیں۔ ٹم کین نے دعوی کیا کہ وہ اس سال مارچ سے یہ معلومات حاصل کرنے کےلیے امریکی محکمہ توانائی (ڈی او ای) پر دباؤ ڈال رہے تھے جس میں انہیں چند روز پہلے ہی کامیابی ملی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سرعت کے ساتھ  سعودی عرب کو حساس ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ۔  ٹم کین کا کہنا ہے کہ سلامتی کے امور کو مد نظر رکھے بغیر سعودی عرب کو حساس ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنا امریکہ کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی بلومبرگ کے صحافی نے اپنی حالیہ رپوٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب اپنا پہلا ایٹمی پلانٹ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایٹمی تعاون امریکی کانگریس کی اجازت کے بعد ہی ہونا چاہیے تھا لیکن امریکی صدر ٹرمپ نے بھاری مقدار ميں رقم  وصول کرکے سعودی عرب کو خفیہ طور پر حساس ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جس پر امریکی کانگریس کے نمائندوں کو سخت تشویش لاحق ہوگئی ہے۔

ادھر سعودی عرب کے خفیہ حساس  ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی عدم  نگرانی کی وجہ سے بھی سعودی عرب کے خفیہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی جوہری ادارے کی غفلت بھی نمایاں ہے۔ سی این این کے مطابق سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام کے میزائل پروگرام سے جڑنے پر سخت تشویش ہے کیونکہ سعودی عرب چین کے تعاون سے بیلسٹک میزآئل تیار کررہا ہے جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

News Code 1891151

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 9 =