سعودی عرب کا یمنی عوام کے خلاف حیاتیاتی اور کیمیکل  ہتھیاروں کا استعمال

یمن کی وزارت صحت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دوران بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے یمن کے نہتے عوام کے خلاف حیاتیاتی اور کیمکل ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں یمن کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر یوسف الحاضری  نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دوران بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے یمن کے نہتے عوام کے خلاف حیاتیاتی اور کیمکل ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے 4 سال قبل امریکہ اور بعض عرب ممالک کے تعاون سے یمن کے نہتے عربوں کے خلاف جارحیت اور بربریت کا آغاز کیا اور اس مدت ميں سعودی عرب نے اپنے شوم اہداف تک پہنچنے کے سلسلے میں یمنی عوام کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کا بھی بھر پور استعمال کیا ہے۔

ڈاکٹر یوسف الحاضری نے کیمیکل و حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مہر نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ  سعودی عرب کے کیمیکل ہتھیاروں کےحملوں میں بیشمار افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں ، صحیح تعداد کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جارہی ہیں ۔ سعودی عرب کی بربریت کا نشانہ بننے والوں ميں اکثریت بچوں کی ہے۔ سعودی عرب نے صعدہ اور سرحدی علاقوں میں بھی ممنوعہ ہتھیاروں کا بھر پور استعمال کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں کے خلاف کلسٹر بموں کا بھی بے تحاشا استعمال کیا ہے جبکہ جنگ کے دوران کلسٹر بموں کا استعمال عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن جنگ کے بارے میں انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے اپنی ذمہ د اریوں پر عمل نہیں کیا اور انھوں نے یمنی عوام پر  ہونے والے سعودی عرب کے بھیانک اور ہولناک جرائم اور مظالم کو عالمی سطح پر بھی اجاگر نہیں کیا۔

News Code 1891086

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =