مکہ اعلامیہ مسترد کرنے پر سعودی عرب اور امارات کی قطر پر تنقید

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مکہ میں خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ کے اعلامیہ کو مسترد کرنے پر قطر پر شدید تنقید کی ہے۔ قطر نے مکہ اعلامیہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے خلاف قراردیا تھا، عراق نے بھی اس اعلامیہ کو مسترد کردیا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اے ایف پی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مکہ میں خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ  کے اعلامیہ کو مسترد کرنے پر قطر پر شدید تنقید کی ہے۔ قطر نے مکہ اعلامیہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے خلاف قراردیا تھا، عراق نے بھی اس اعلامیہ کو مسترد کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق قطر نے 3 روزہ اجلاس میں شرکت کے بعد دو روز قبل کہا تھا کہ وہ اس کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان سے باقاعدہ مشاورت نہیں کی جس پر متحدہ عرب امارات  نے دوحہ کو اجلاس کے اعلامیہ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔ قطر نے اس اعلامیہ کو جعلی اور بغیر مشورت کے قراردیا تھا۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سعودی عرب نے مکہ کی آڑ میں 3 اجلاس طلب کیے گئے تھے جس میں سعودی بادشاہ نے عرب اور اسلامی ممالک کے ایران کے خلاف اکسانے کی بھر پور کوشش کی لیکن سعودی عرب کے امیرکہ نواز بادشاہ کی یہ کوشش اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ناکام ہوگئی۔ قطر نے بھیمکہ اعلامیہ کو مسترد کردیا جبکہ عراق کے صدر نے بھی ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات کو بےبنیاد اور جھوٹ پر مبنی قراردیتے ہوئے اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے 2 جون کو کہا تھا کہ اعلامیے ' اجلاس سے قبل ہی تیار کیے گئے تھے اور ان پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے نشریاتی ادارے العربی کو بتایا کہ  قطر کو عرب لیگ اور خلیج تعاون تنظیم کے اجلاس پر تحفظات ہیں کیونکہ ان کی بعض شرائط دوحہ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہیں۔

عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے مکہ میں ہونے والے تین اجلاسز میں اربوں ڈآلر خرچ گئے لیکن اسے ایران کے خلاف عرب اور اسلامی ممالک

News Code 1891077

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 2 =